””اللہ کو 2 سیکنڈ میں کیسے راضی کریں؟““


 اگر آپ غور کیجئے تو ہماری زندگی کا مقصد ہی اللہ کی یاد ہے اللہ نے پیدا جو کیا عبادت کے لئے تو عبادت کا اصل مقصد اللہ کی یاد تو اصل مقصود اللہ کی یاد ہے اسی سے یہ دنیا قائم ہے اور دنیا کی ہر چیز اللہ کا ذکر کرتی ہے جو بھی زندہ چیز ہے وہ ذکر کرتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں : جو کوئی بھی چیز ہے وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تم اس کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے تو ہم نہیں سمجھ سکتے لیکن ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کررہی ہوتی ہے ہمیں ایک مرتبہ اس کا تجربہ بھی ہوا امریکا میں ایک ایسی ریاست میں جانےکا موقع ملا جہاں کوئی پندرہ بیس پاکستانی ڈاکٹر ایک ہی جگہ رہتے تھے۔

تو ایک ہفتہ ان کے ہاں قیام تھا ان میں سے ایک صاحب جو تھے وہ دل کے سپیشلسٹ تھے قدرتا انہی کے ہاں قیام تھا وہ مجھے کہنے لگے کہ حضرت آپ نے ہماری روحانی بیماریوں کا علاج تو ہمیں بتا دیا اب میں آپ کو صبح ہاسپٹل لے جاؤں گا اور آپ کے دل کو چیک کروں گا ہم نے کہا جی ٹھیک ہے چنانچہ وقت تھا ہم اس کے ساتھ ہاسپٹل چلے گئے انہوں نے ہمیں جاکے ایک کمرے میں مشین کے آگے لٹالیا اور دل کو چیک کرنا شروع کیا ایکو کارڈیو گرام اس کو کہتے ہیں وہ دل کی تصویر آجاتی ہے اور دل کی رگوں میں کیسے خون جارہا ہے اور آرہا ہے اس کی پوری تفصیل اس کے اندر ہوتی ہے


جب انہوں نے سکرین پر دکھایا تو مجھے کہنے لگے دیکھیں یہاں سے خون جارہا ہے اور یہاں سے آرہا ہے اور اتنی مقدار سے جارہا ہے اور آپ کی شریانی اس وقت ٹھیک ہیں۔ اور اسی فیصد کام کررہی ہیں سو کی بجائے تو اس عمر میں اسی فیصد بہت اچھی چیز تھی تو کہنے لگے میں بہت مطمئن ہوں آپ کے دل کی کفیت سے پھر اس کے بعد کہنے لگے میں آپ کو آپ کے دل کی آواز سناؤں میں نے کہا سنائیں تو انہوں نے ایک بٹن آن کیا جیسے ہی بٹن آن کیا تو آواز آنے لگ گئی جیسے دل جو ہے خون کو پمپ کررہا ہے وہ کہنے لگاجی ہماری میڈیکل کی کتابوں میں لکھا ہے کہ دل جب خون کو پمپ کرتا ہے

وہ آواز رب رب کی پیدا ہورہی ہوتی ہے میں نے کہا آج مسئلہ سمجھ میں آگیا اگر ہر ذی روح کا دل جو خون پمپ کرتا ہے اس کی آواز رب رب پکار رہی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی ذی روح دنیا کے اندر ہیں سب کے جسم اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تو قرآن مجید میں فرمادیا ۔تو واقعی بات ایسی ہے کہ ہمارا جسم اللہ کا ذکر کررہا ہوتا ہے باقی ہم خود اللہ کا ذکر کریں تو پھر کامل جسم اللہ کا ذکر کرے گا ورنہ آدھا تو کر ہی رہاہوتا ہے اور باقی آدھا غافل ہوتا ہے تو ہمیں اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنا چاہئے تا کہ اس کے اثرات ہمارے دلوں پر مرتب ہوں چنانچہ انسان کا یہ جو ذکر ہے یہ ایک انسان کے لئے جان کی مانند ہے

Comments

Popular posts from this blog

کیا آپ آیتہ الکرسی کے عامل بننا چاہتے ہیں

عید الفطر پیر کو ہوگی یا منگل کو؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا

سورت الضحیٰ کا طاقتور وظیفہ